What is Dexamethasone? ( in Urdu ) ڈیکسامیتھاسون کیا ہے اور یہ کیسے کام کرتا ہے؟



Dexamethasone

پاکستان میں ڈیکسامیتھاسون (dexamethasone) کے مندرجہ ذیل برانڈ دستیاب ہیں

ADRENAAL, ALDRON, ATNESON, CECIDRON, D CORT, D SONE, D.DRON, DANADEX, DECADRON, DELTASALONE, DEXADRIN, DEXAMED, DEXAMEDRON, DEXAMEK, DEXAMETHASONE, DEXAMEX, DEXAROID, MERRYSONE, METHOX, NEUDEX, ORADEXON, Z-DEX, DEXAMETHASONE INJECTION.

ڈیکسامیتھاسون ایک مصنوعی طور پر تیار کیا جانے والا سٹیرائڈ (Synthetic Adrenocortical Steroid) ہے جس کے جسم پر مختلف انواع کے اثرات دیکھنے میں آتے ہیں۔ یہ جسم سے سوزش اور سوجن کو کم کرتا ہے۔

جن بیماریوں میں ڈیکسامیتھاسون کارآمد ہے اُن بیماریوں کے علاج کیلیئےڈیکسامیتھاسون کی ممکنہ حد تک کم سے کم مقدار استعمال کروانی چاہیئے۔ اگر کسی مرحلہ پر ڈیکسامیتھاسون کی خوراک میں کمی کرنا درکار ہو، تو خوراک آہستہ آہستہ کم کرنی چاہیئے۔

ڈیکسامیتھاسون (dexamethasone) کا استعمال مندرجہ ذیل کیفیات میں کروایا جاتا ہے

الرجی کی مختلف کیفیات میں

دمہ کے مریضوں میں

جلد کی بیماریوں میں

درون افرازی غدودوں (Endocrine glands) کی بیماریوں میں

خون کی بیماریوں میں (Hemolytic anemia, hypoplastic anemia)

مختلف اقسام کے کینسر میں

اعصابی بیماریوں میں

آنکھوں کی بیماریوں میں

گردوں کی بیماریوں میں

پھیپھڑوں کی بیماریوں میں

جوڑوں کی بیماریوں میں

کیموتھراپی سے پیدا ہونے والی متلی یا الٹی کیلیئے حال ہی میں کورونا وائرس سے ہونے والی بیماری کے علاج میں بھی اسے مفید پایا گیا ہے۔

اوپر دی گئی کیفیات کے علاوہ اور بھی بے شمار بیماریوں میں ڈیکسامیتھاسون استعمال کروایا جاتا ہے۔

ڈیکسامیتھاسون (dexamethasone) کے دیگر اثرات

ڈیکسامیتھاسون کے استعمال سے جسم سے پوٹاشیم کا اخراج بڑھ جاتا ہے اور سوڈیم کا اخراج کم ہو جاتا ہے ۔ اس وجہ سے جسم پر سوجن ظاہر ہو سکتی ہے اور دل کے مریضوں میں صحت کے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں ۔

ڈیکسامیتھاسون چونکہ جسم میں موجود کیلشیم پر بھی اثر انداز ہوتا ہے، اس لیئے اس کے استعمال سے ہڈیوں میں بننے کا عمل کم اور ٹوٹ پھوٹ کا عمل زیادہ ہونے لگتا ہے۔ ان اثرات کی وجہ سے بچوں میں ڈیکسامیتھاسون کےاستعمال سے ہڈیوں کی نشونما متاثر ہوتی ہے اور بڑوں میں آسٹیوپوروسس کا عمل شروع ہو سکتا ہے جس سے ہڈیاں کمزور ہو کر ٹوٹنے کا خطرہ پیدا ہو جاتا ہے ۔ تاہم ایسا زیادہ تر ڈیکسامیتھاسون کے طویل عرصہ کے استعمال سے ہوتا ہے۔

ڈیکسامیتھاسون کے استعمال سے قوتِ مدافعت کمزور پڑ جاتی ہے، اس لیئے کسی انفیکشن کے دوران ڈیکسامیتھاسون کا استعمال اُس انفیکشن کے بڑھنے کا سبب بن سکتا ہے ۔ خصوصاً وہ مریض جن کو ٹی بی (Tuberculosis) کا مرض ہو، جسم میں پھپھوندی کی انفیکشن ہو یا دماغی ملیریا ہو ، اُن میں مرض کے بڑھنے کا احتمال رہتا ہے۔ وہ لوگ جن کو پہلے ٹی بی رہی ہو مگر اب ٹھیک ہو چکی ہو، ان میں ڈیکسامیتھاسون کے استعمال سے ٹی بی دوبارہ ابھر کر سامنے آ سکتی ہے ۔ ڈیکسامیتھاسون کے استعمال سے آنکھوں کے مسائل بھی پیدا ہو سکتے ہیں۔

حاملہ خواتین کیلیئے ھدایات

حاملہ خواتین میں ڈیکسامیتھاسون (dexamethasone) کا استعمال زیادہ موزوں نہیں ہے (Pregnancy Category C) .اس سے مراد یہ ہے کہ جانوروں پر ہونے والی ریسرچ میں یہ بات نظر آی کہ ڈیکسامیتھاسون کے استعمال سے ان جانوروں میں پیدا ہونے والے بچوں میں پیدائشی خرابیاں پائ گئیں ، تاہم اس سلسلے میں انسانوں پر ابھی ریسرچ ناکافی ہے ۔ اس لیئے استعمال میں احتیاط برتنی چاہیئے ۔

ڈیکسامیتھاسون (dexamethasone) کے سائڈ افیکٹ (Side Effect)

- الرجی

- دل کا متاثر ہونا

- جلد پر بالوں کا حد سے بڑھ جانا

- پھیپھڑوں میں پانی پڑ جانا

- جلد پر ایکنی نکل آنا

- دل کا فیل ہونا

- جگر کے انزائم متاثر ہونا

- پیٹ اور جسم کا پھول جانا

- ہڈیوں اور پٹھوں کا کمزور ہونا

- دورے پڑنا ، ڈیپریشن ، سر درد

- بلند فشارِ خون (ہائ بلڈ پریشر)

دوسروں کی آگاہی کیلیئے شیئر کریں۔


Skype

Clicking Subscribe button will subscribe you to our marketing campaigns as well.