Best rang gora karne wali whitening cream banane ka tarika in Urdu رنگ گورا کرنے والی کریم


کیا آپ کو معلوم ہے کہ مغربی ممالک میں گوری رنگت رکھنے والی خواتین اِس بات کی خواہش مند ہوتی ہیں کہ اُن کی جِلد کی رنگت گہری ہو؟

اِسی مقصد کے حصول کیلیئے وہ خواتیں ٹیننگ (Tanning) کے عمل سے گزرتی ہیں، جو کہ بجائے خود اپنے مُضر اثرات رکھتا ہے!

مشرقی خواتین کا رنگ قدرتی طور پر گہرا ہے اور آج سے کچھ دہائیوں پہلے تک یہ کوئ مسئلہ نہیں تھا، مگر جدید میڈیا پر گوری رنگت سے متعلق مَواد نے مَشرقی خواتین کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ اگر رنگت گہری یا کالی ہو تو یہ تشویشناک بات ہے۔

چلیں مان لیا کہ آپ کو گورا رنگ ہی چاہیئے، مگر کِس قیمت پر؟

اگر میں یہ کہوں کہ گورے رنگ کیلیئے خواتین اپنی جِلد کو داؤ پر لگا دیتی ہیں تو کیا آپ کو یقین آ جائے گا؟

یقین جانئیے یہ حقیقت ہے!!

اردو میگزین، رسالہ، ٹی وی پر آنے والے نَقلی ماھرین، اخبارات، فضول قسم کی ویب سائیٹس، فیس بک، ٹوِٹر اور بیوٹی پارلر – یہ وہ ذرائع ہیں جہاں سے مِلنے والا ہر ٹوٹکہ ہماری خواتین نہ صرف درست سمجھ کر آزماتی ہیں، بلکہ اِسے اپنا حَشر دیکھنے سے پہلے دوسروں سے شیئر بھی کرتی ہیں۔

ایک عام طریقہ جو بہت سی خواتین گورے رنگ کے حصول کیلیئے اِستعمال کرتی ہیں، اُس میں رنگ گورا کرنے والی چار پانچ مُختلف بازاری کریموں کو آپس میں مِلا کر اِستعمال کیا جاتا ہے۔ اِس پر ظُلم یہ کہ اِن کریموں میں سٹیرائڈ (Steroids) ادویات کو شامل کر دیا جاتا ہے، جو کہ طِبی لحاظ سے بالکل مُناسب نہیں ہے۔

چہرے پر سٹیرائڈ (Steroids) کے استعمال سے مُندرجہ ذیل مَسائل پیدا ہو سکتے ہیں:

۔ جِلد کا پَتلا ہونا

۔ جِلد کی رگوں کا نَظر آنا

۔ جِلد پر بال آنا

۔ جِلد پر ایکنی/دانے/کیل نِکل آنا

۔ جِلد کا ضرورت سے زیادہ حَساس ہو جانا

۔ جِلد پر بیکٹیریا یا فنگس کی اِنفیکشن ہونا

وغیرہ

ِلہٰذا جب اِن بازاری کریموں کے مُرکب کو اِستعمال کیا جاتا ہے، تو اصل مسئلہ وہیں رہتا ہے اور نئے مسائل سامنے آنے لگتے ہیں۔ اَب آپ ہی بتائیں کہ کیا ایسا کرنے سے اپنی جِلد کو داؤ پر نہیں لگایا جاتا؟

معاشی پہلو

کیا آپ نے کبھی سوچا ہے کہ گورے رنگ سے مُتعلق کاروبار کا حُجم کتنا ہے؟

صرف ہمارے پڑوسی مُلک اِنڈیا میں گورے رنگ سے مُتعلق کاروبار کا حُجم سالانہ 400 ملین ڈالر ہے اور اِس کاروبار میں سالانہ 25 فیصد اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔

مزید یہ کہ صرف اِس ایک مُلک بھارت میں 240 برانڈ کی گورے ہونے والی کریمیں دستیاب ہیں۔ اور کچھ ایسے ہی حالات تقریباً سارے ایشیا اور افریقہ کے ہیں۔

دلچسب امر یہ ہے کہ اَب گورا دِکھنے کا شوق صرف خواتین تک محدود نہیں رہا۔ اب مرد حضرات بھی اس کا شکار ہونے لگے ہیں!

اِسی شوق کو دیکھتے ہوئے اب زیادہ سے زیادہ کاروباری لوگ ایسی کریمیں بنانے اور بیچنے کا کاروبار کرنے لگے ہیں جو گوری رنگت دینے کا وعدہ تو کرتی ہیں، مگر اسے پُورا نہیں کرتیں۔ مزید یہ کہ اِن کریموں کی قیمت اِتنی زیادہ رکھی جاتی ہے کہ خریدار کو یہ شک ہی نہ گزرے کہ یہ بےکار دوا ہے۔

یہاں سوال پیدا ہوتا ہے کہ گورا ہونے کیلیئے جو ادویات ہمارے ہاں اتنی بکثرت استعمال ہوتی ہیں، کیا لوگوں کو اُن ادویات کے اثرات کے بارے میں کچھ علم بھی ہے؟ آئیے کچھ مشہور ادویات کا مُختصر جائزہ لیتے ہیں۔ یہاں صرف چَند مشہور ادویات کا ذکر کیا گیا ہے، ورنہ حقیقت میں یہ لِسٹ بہت لمبی ہے۔

Hydroquinone

اِس دوا کو بلیچنگ ایجنٹ کے طور پرجانا جاتا ہے اور یہ Tyrosinase Enzyme پر اثر انداز ہو کر اِس کے عمل کو سُست کر دیتی ہے۔ نتیجتاً Melanin بننے کا عمل سُست پڑ جاتا ہے۔ جِلد میں رنگت بنانے والے خُلیوں Melanocytes کیلیئے یہ دوا زہریلی تصور کی جاتی ہے۔ اِس دوا کے استعمال سے رنگت میں بہتری تو آتی ہے، لیکن اگر جِلد پر سورج یا اَلٹراوائیلٹ شعاعیں اثر انداز ہوں تو رنگت دوبارہ سیاہ ہو سکتی ہے۔

دلچسب امر یہ ہے کہ برطانیہ، امریکہ اور بعض دوسرے ممالک میں یہ دوا بین کر دینے کی سفارشات کی جا رہی ہیں۔

Kojic Acid

اِس دوا کے کام کرنے کا طریقہ Hydroquinone جیسا ہی ہے اور یہ بھی Tyrosinase Enzyme پر اثر انداز ہو کر اِس کے عمل کو کم کر دیتی ہے جِس سے جِلد میں پگمنٹ بننے کا عمل سُست پڑ جاتا ہے اور جِلد نِسبتاً ہلکا رنگ اختیار کر لیتی ہے۔ تاہم یہ دوا ہوا اور دھوپ کے اثر سے بہت جَلد بے اثر ہو جاتی ہے اور اسی مسئلے کے پیش نظر اِسی دوا کی دوسری قسم Kojic dipalmitate کو گورا کرنے والی دواؤں میں اِستعمال کیا جاتا ہے۔

Alpha-Arbutin

کیمیائ لحاظ سے یہ Hydroquinone سے مِلتی جُلتی دوا ہے اور یہ بھی Tyrosinase Enzyme پر اثر انداز ہو کر جِلد کی رنگت کو ہلکا کرنے میں اپنا کردار ادا کرتی ہے۔ عام طور پر اس کو Bearberry plant سےاخذ کیا جاتا ہے مگر اِسے مصنوعی طور پر بھی تیار کیا جا سکتا ہے۔ چونکہ جِلد پر لگنے کے بعد اِس دوا کے منفی اثرات بہت کم ہوتے ہیں، اِس لیئے کچھ ماہرین کے خیال میں یہ Hydroquinone سے بہتر دوا ہے۔

Magnesium Ascorbyl Phosphate

یہ وٹامن سی سے اخذ کی گئی دوا ہے ۔ وٹامن سی کی یہ خصوصیت ہے کہ اِس کا استعمال جِلد کو دھوپ کے مُضر اثرات سے بچاتا ہے اور جِلد کی سوزش کو کم کرتا ہے۔ اسکے علاوہ یہ خُلیوں میں پیدا ہونے والے نقصان دہ فری ریڈیکلز (Free Radicals) کو تَلف کرنے میں مدد دیتا ہے۔ اِن تمام خصوصیات کے باوجود وٹامن سی کی کمزوری یہ ہے کہ یہ بہت آسانی سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو کر اپنی افادیت کھو دیتا ہے۔ اِسی وجہ سےMagnesium Ascorbyl Phosphate کو تیار کیا گیا ہے؛ یہ نہ صرف دیر تک ٹوٹ پھوٹ کا شکار نہیں ہوتی، بلکہ اپنی افادیت بھی برقرار رکھتی ہے۔ یہ دوا Tyrosinaseانزائم پر اثر انداز ہو کر میلانین بننے کے عمل کو کم کر دیتی ہے جس سے رنگت میں نکھار آنے لگتا ہے۔

گورے رنگ کا حصول ایک خواہش ، مگر اِس کی تکمیل کیسے؟

سب سے پہلے مُندرجہ ذیل باتوں کو سمجھنا ضروری ہے:

۔ چاہے آپ جو بھی دوا یا کریم اِستعمال کریں، رنگت کا نِکھار صرف دوا کے استعمال تک باقی رہتا ہے۔ جب دوا یا کریم کا اِستعمال بند ہو گا، تو آہستہ آہستہ جِلد اپنے قُدرتی رنگ کی طرف واپس لوٹ جائے گی۔

۔ دھوپ کے اثرات سے انسانی جِلد نِسبتاً زیادہ گہرا رنگ اختیار کر لیتی ہے۔

۔ جِلد کے جس حصے پر دھوپ پڑتی ہے، وہ باقی جِلد کی نِسبت گہرا رنگ اختیار کر لیتا ہے۔

۔ اگر آپکی جِلد دُھوپ کی وجہ سے گہرا رنگ اختیار کر چکی ہے، تو محض دُھوپ سے بچاوٴ آپکی رنگت کا نِکھار واپس لا سکتا ہے۔

۔ سفید بُرقع، سفید ٹوپی (Hat)،سفید دوپٹہ، سفید چَھتری اور سَن بلاک کریموں کا اِستعمال کر کے دُھوپ کے مُضر اثرات سے بچا جا سکتا ہے۔

۔ سیاہ رنگ کے پہناوے جِلد کو دھوپ سے پہنچنے والے مضر اثرات کو بڑھا دیتے ہیں۔

۔ حاملہ خواتین میں چِہرے کی جِلد پر چھائیاں پڑنے کے اِمکانات زیادہ ہوتے ہیں، اِس لیئے دُھوپ سے بچاوٴ زیادہ ضروری ہے۔

۔ وٹامِن سی (قدرتی یا دوا کی صورت میں) جِلد کو دھوپ سے پہنچنے والے نقصان سے کِسی حد تک بچاتا ہے۔

۔ اگر رنگت کے علاوہ جِلد کو کوئ اور مسئلہ بھی ہو، تو پہلے اُس کا علاج ضروری ہے۔

دوا / علاج

اِنٹرنیٹ ، ٹی وی اور میگزین بالعموم گورے ہونے کے نُسخے چھاپتے رہتے ہیں۔ جو رہی سہی کسر ہے وہ بیوٹی پارلر کے ماہرین پوری کر دیتے ہیں۔ عام طور پر ایسے نُسخوں میں سٹرابری، دہی، ملتانی مٹی، عرقِ گلاب، اُبٹن، بادام اور نجانے کیا کیا ملانے کے بعد وُہی ادویات مِلانے کو کہا جاتا ہے جو اِس مضمون میں اُوپر درج کر دی گئی ہیں۔ ایسے نُسخے کہاں تک کار آمد ہوتے ہیں، اِس بارے میں کوئ تحقیق تو سامنے نہیں آئ، تاہم جِلدی امراض کے مُعالج کے طور پر میں یہ بات وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ اِیسے نُسخوں کا اِستعمال فائدہ کم اور نُقصان زیادہ دیتا ہے۔

افسوس کی بات یہ ہے کہ گورے ہونے کے شوقین خواتین و حضرات کو ایسے چکر میں ڈال دیا جاتا ہے کہ وہ پہلے اپنا نُقصان کرتے ہیں اور آخر کار جِلد کے معالج کے پاس پہنچ جاتے ہیں۔

کوئ اِن سے پوچھے کہ جناب آپ پہلے ڈاکٹر کے پاس کیوں نہیں آئے؟ یا یہ کہ اَب اُسی ماہر کے پاس کیوں نہیں گئے جِس کے نُسخے سے آپکا یہ حال ہوا ہے؟ مگر خیر ، اِن باتوں کا جواب شائد کوئ بھی نہیں دیناچاہتا۔

یہاں یہ بتانا ضروری ہے کہ کوئ بھی نُسخہ ایسا نہیں ہو سکتا جو سب کی جِلد کو راس آ جائے۔

ہر فرد کی جِلد مُختلف ہوتی ہے اور نُسخہ بھی جِلد کی کیفیت کے مطابق ہوتا ہے۔ اگر آپ کوئ نیا نُسخہ یا ٹوٹکہ آزمانا چاہتے ہیں، تو پہلے پہل اُسے اپنی جِلد کے تھوڑے سے حصے پر لگا کر دیکھیں۔ اگر راس آ جائے تو ٹھیک، ورنہ اس کا استعمال ترک کر دیں۔ مزید یہ کہ چہرے کی جِلد پر طاقتور سٹیرائڈ (Potent Steroids) اِستعمال مت کریں۔

ایک مُختصر نُسخہ پیشِ خدمت ہے۔ مقصد صرف یہ ہے کہ آپکا پیسہ ، وقت اور صحت برباد نہ ہو۔ اِستعمال سے ہونے والےمُمکنہ مُضر اثرات کی ذمہ داری آپکی اپنی ہے۔ اگر کِسی شک کا شکار ہوں تو نُسخہ ہرگز اِستعمال مت کریں۔

جب یہ نُسخہ استعمال کریں تو اِس کے ساتھ کسی بھی قسم کی دوسری دوا یا کریم استعمال مت کریں؛ اگر دوسری دوا یا کریم کا استعمال ضروری ہو، تو یہ نُسخہ بالکل استعمال مت کریں۔

یہ نُسخہ صرف اُن لوگوں کیلیئے ہے جِن کی جِلد ویسے ہر لحاظ سے صحت مند ہے، مگر رنگت کی بہتری درکار ہے:

Step 1

روزانہ رات کو سونے سے پہلے چہرے کی صفائ کریں۔ اِس کیلیئے مندرجہ ذیل فیس واش میں سے کوئ ایک اِستعمال کیا جا سکتا ہے۔

۔ Alite Face Wash

۔ Dermoteen Face Wash

​اگر اپنی مرضی کا کوئ فیس واش (Face wash) اِستعمال کرنا چاہیں، تو یقین کر لیں کہ وہ Exfoliating Facewash ہو۔

پہلے دن فیس واش کی تھوڑی سی مِقدار چہرے پر لگائیں تاکہ پتہ چل سکے کہ آپ کی جِلد اِسے برداشت کر سکتی ہے یا نہیں۔ چہرے کی صفائ کا عمل 1 سے 5 مِنٹ تک کیا جا سکتا ہے۔ چہرے پر جہاں چکنائ (Oil) کا احساس ہو، وہاں صفائ لازمی کریں۔ ناک اور چہرے پر جہاں بلیک ہیڈز (Black Heads) نظر آئیں، اُس جگہ کی صفائ لازمی کریں۔

جِن لوگوں کی جِلد خُشک قسم کی ہو یا جِن لوگوں کو فیس واش کے اِستعمال سے خشکی کا احساس ہونے لگے، وہ روزانہ فیس واش کا اِستعمال نہ کریں، بلکہ کچھ دِن کا وقفہ دے کر اِستعمال کریں۔

Step 2

چہرہ صاف کر لینے کے بعد اُسے تولیے سے رگڑ کر صاف نہیں کریں۔ اِس کی بجائے، تولیئے کو چہرے پر لگا کر اسے صرف اِتنا خُشک کریں کہ جِلد پر کچھ نمی باقی رہے۔

Step 3

مُندرجہ ذیل کریموں میں سے کوئ ایک کریم بازار سے خرید لیں اور اُس کا اِستعمال نیچے سمجھائے گئے طریقے کے مُطابق کریں۔

۔ ALPHAGLOW CREAM

۔ EVENTONE- C CREAM

۔ پہلے دِن کریم کو چہرے کے تھوڑے سے حصے پر مُختصروقت کیلیئے لگائیں (10 سے 45 منٹ)۔

۔ معمولی جَلن کسی بھی کریم سے ہو سکتی ہے۔ تاہم اگر زیادہ جلن یا تکلیف ہو تو کریم کا استعمال تَرک کر دیں۔ اِس صورت میں اوپر دی گئی دوسری کریم اِستعمال کر کے آزمائیں۔ اگر راس نہ آئے تو اُس کا اِستعمال بھی ترک کر دیں۔

۔ اگر پہلے دن کریم لگانے سے کوئ مسئلہ نہ ہو تو دوسرے دن پورے چہرے پر کریم لگائیں۔ اِس کا دورانیہ بھی مُختصر رکھیں (10 سے 45 منٹ)۔

۔ 5 سے 7 دن تک اسی معمول کے مطابق کریم لگائیں۔

۔ ہفتے بھر کے اِستعمال کے بعد کریم لگانے کا دورنیہ بڑھائیں (1 سے 6 گھنٹے تک)۔

۔ جب جِلد کریم کی عادی ہو جائے تو پوری رات کریم کو لگا رہنے دیں اور صبح اُٹھ کر چہرہ دھو لیں۔

Step 4

صبح اُٹھنے کے بعد چہرہ دھوئیں اور سب سے پہلے سَن بلاک لگائیں۔

اگر آپ کی جِلد خُشک قِسم کی ہے تو مندرجہ ذیل سن بلاک استعمال کریں:

۔ Sunblock 60 - Sunblock Cream

اگر یہ دستیاب نہ ہو یا اِس کے علاوہ کوئ اور سن بلاک آپ کو پسند ہو تو آپ اُسے بھی اِستعمال کر سکتے ہیں بشرطیکہ اُس کا SPF کم از کم 40 ہو۔

اگر آپ کی جِلد Oily قسم کی ہے اور اس پر تیل زیادہ نظر آتا ہے، تو مندرجہ ذیل میں سے کوئ ایک سن بلاک استعمال کریں:

۔ Spectrum SC Gel

۔ Spectra Matt SC - Sebum control Sunblock Gel

دن کے اوقات میں سن بلاک لگائے رکھیں۔ اگر چہرہ دھونے سے سن بلاک ہٹ جائے تو دوبارہ لگا لیں۔

آخری اور اہم بات - یہ رات و رات گورا ہونے کا نُسخہ نہیں ہے، اس لیئے اگر آپ کو جَلدی ہے، تو کِسی جادوئ نُسخے کی تلاش جاری رکھیں !

اگر پسند آئے تو احباب سے شیئر کریں!


Skype

Clicking Subscribe button will subscribe you to our marketing campaigns as well.