Paracetamol, acetaminophen, panadol ( in Urdu )پیناڈول / پیراسیٹامول کیا ہے ؟


پاکستان میں اِس دوا کے مُندرجہ ذیل برانڈ دستیاب ہیں:

ACEPOL, ACETOFEN, ADVIL, AMADOL, AMIDOL, ANAMOL, AMOLE, ASKPROL, BAMOL, BENCETAMOL, BIOMOL, BOFALGAN, C.C.DON, CALPOL, CALPOL PLUS, CAMPOL, CAYMOL,CEPOL, CETAMOL, CITALIX, CHIKYMOL, CHILPOL, COLBEX, CONVIDOL 6 PLUS, DEEPOL, DELMOL, DETAMOL, DISPROL, DOZABITOL, E-POL, ESTADOL, EVASAF, FALGAN, FAMOL, FARAMOL, FEBRINOL, FEBROL, FEDRAMOL, FENMOL, FERMOL, FEVADOL, FEVERCARE, FEVAMOL, FEVEROL, FEVERAL, FITAMOL, FOZITOL, FRIENDOMOL, GENICOL, GEOMOL, HEPMOL, IPRAMOL, IRZAMOL 6 PLUS, KASAMOL, KIDI-PARA, KEMPOL, KLEBRO, KHUSMOL, KYMOL, LAWRAMOL, LEFIN, LIQMOL, L-POL, MEGAPOL, MUNAPOL, MYLENOL, NENDOL, NAPA (suppository), NODAL, NORMIDOL, PAIGONE, PAINOL, PAMOL, PANADOL, PANAM, PANARAM, PANOL, PARABRO, PARACETAMOL USES, PARACETOL, PARAKIDS, PARAMOL, PARADIN, PARAGRAY, PARAHEIM, PARALIEF, PARAMAC, PARAMED, PARAMOL, PARAPOL, PARASIN, PARASOL, PAROL, PATAMOL, PEDRIC, PEDROL, P-MOL, PM, PRIMEMOL, PROVAS, PYRECAF, PYROL, RASCODOL 6 PLUS, DICPOT, RELIEFAL 6+, SAPTAMOL, SUPAMOL, SYNOPAR, TAMIL, TANAMOL, TARAMOL, TEMPOL 6 PLUS, TEMPRIN 6 PLUS, TEMPNIL, TYLADOL, TYLOL, VAMOL, XAMOL, YANIL, ZANCPAL, ZURFEMOL.

اِس دوا کو پیراسیٹامول (paracetamol) یا اَسِیٹ امینوفین (acetaminophen)، دونوں ناموں سے لکھا اور پڑھا جاتا ہے۔ دونوں ناموں سے مُراد ایک ہی دوا ہے۔ گو کہ یہ دوا دنیا بھر میں بہت زیادہ استعمال ہوتی ہے، لیکن اس دوا کے عمل کرنے کا طریقہ کار ابھی تک مکمل طور پر سمجھا نہیں جا سکا۔

پیراسیٹامول (paracetamol) کا شُمار دَرد اور بُخار رفع کرنے والی ادویات میں کیا جاتا ہے۔ چنانچہ اِس کا استعمال مُندرجہ ذیل کیفیات میں رائج ہے:

۔ سر درد

۔ پٹھوں کا درد

۔ جوڑوں کا درد

۔ کمر درد

۔ نزلہ زکام کی کیفیت میں

۔ دانت کے درد میں

۔ ڈینگی بخار کے دوران جَوڑوں کے درد اور بُخار پر قابو پانے کیلیئے پیراسیٹامول کا اِستعمال بہتر خیال کیا جاتا ہے، کیونکہ اِس کیفیت میں دوسری ادویات مثلاً ibuprofen یا aspirin کے اِستعمال سے جسم سے خون رِسنے کے امکانات مزید بڑھ جاتے ہیں۔

مُنہ کے ذریعے جسم میں داخل ہونے کے بعد پیراسیٹامول (paracetamol) عمل انہضام کی نالی (Gastrointestinal Tract) میں پہنچ کر بہت تیزی سے جَذب ہوتی ہے اور اِس کی تقریباً 70 سے 90 فیصد مِقدار اپنا اثر دکھانے کیلیئے دستیاب ہوتی ہے۔ اگر پیٹ میں خوراک پہلے سے موجود ہو، تو پیراسیٹامول کے جسم میں جذب ہونے میں دیر ہو سکتی ہے۔ جسم میں جذب ہونے کے بعد پیراسیٹامول کی زیادہ تر مقدار جگر میں ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہوتی ہے؛ اسی لیئے اگر پیراسیٹامول زیادہ مقدار میں اِستعمال کر لی جائے، تو جگر کو نُقصان (Acute Hepatic Necrosis) ہو سکتا ہے۔ پیراسیٹامول کی تقریباً 90 فیصد مقدار پیشاب کی ذریعے 24 گھنٹے کے اندر اندر جسم سے خارج ہوجاتی ہے۔ جن لوگوں کو جگر کا شدید مرض لاحق ہو، اُن میں پیراسیٹامول کا جسم سے اِخراج سُست روی کا شکار ہو سکتا ہے۔

جگر کی کسی بھی شدید بیماری کی کیفیت میں پیراسیٹامول (paracetamol) کے اِستعمال سے پرہیز بہتر ہے۔ پیراسیٹامول کی زیادہ مقدار کھا لینے سے جگر متاثر ہو سکتا ہے؛ زیادہ شدید کیفیت میں موت بھی واقع ہو سکتی ہے۔

بازار میں دستیاب بعض ادویات میں پیراسیٹامول دوسرے اجزاء کے ساتھ پہلے سے شامل ہوتی ہے؛ ایسی صورت میں الگ سے پیراسیٹامول کھانے سے جسم میں پیراسیٹامول کی مِقدار ضرورت سے زیادہ بڑھ سکتی ہے اور صحت کو نُقصان پُہنچ سکتا ہے۔

پیراسیٹامول (paracetamol) کھانے کے بعد اگر مَتلی ہو، خارش ہو، بھوک ختم ہو جائے، پیٹ کے اُوپر والے حصے میں درد ہو، پیشاب کا رنگ گہرا ہو جائے یا جسم اور آنکھوں میں پِیلاہٹ ظاہر ہو تو فوراً اپنے معالج سے رجوع کریں۔

ابھی تک ہونے والی تحقیق کے مطابق ، حاملہ خواتین میں پیراسیٹامول کے استعمال سے بچے کو نُقصان کا اندیشہ نہیں ہوتا۔ تاہم دوسری ادویات کی طرح ، حمل کے دوران پیراسیٹامول کا اِستعال کم سے کم کرنا چاہیئے۔

پیراسیٹامول (paracetamol) ماں کے دودھ میں خارج ہوتی ہے، تاہم اِس کی مقداربہت کم ہوتی ہے۔ اس لیئے زیادہ تر ماہرین کی رائے میں دودھ پلانے والی ماؤں میں اس دوا کا استعمال بچے کیلیئے کسی نقصان کا باعث نہیں ہے۔ تاہم پھر بھی دودھ پلانے والی ماؤں میں پیراسیٹامول کے اِستعمال میں احتیاط کرنی بہتر ہے اور غیرضروری اِستعمال سے اجتناب کرنا چاہیئے۔

بچوں کیلیئے پیراسیٹامول ڈراپ یا سیرپ کی شکل میں دستیاب ہے؛ بچوں کو اس دوا کی خوراک دینےمیں خصوصی احتیاط کریں۔


Skype

Clicking Subscribe button will subscribe you to our marketing campaigns as well.