Empagliflozin in Urdu ایمپاگلیفلوزِن کیا ھے اور کیسے کام کرتی ھے؟


پاکستان میں ایمپاگلیفلوزِن (Empagliflozin) کے مندرجہ ذیل برانڈ دستیاب ھیں:

Diampa, Empaa, Jardy.

ایمپاگلیفلوزِن (Empagliflozin) کا شُمار ادویات کے (Sodium-glucose co-transporter 2 inhibitor (SGLT2 گروپ میں ھوتا ھے۔

ایمپاگلیفلوزِن کا استعمال Empagliflozin Uses

یہ دوا ذیابیطس کے مریضوں کو استعمال کروائ جاتی ھے۔ شوگر (ذیابیطس) کی دوسری ادویات کے برعکس یہ دوا خون میں موجود گلوکوز کو جسم سے گُردوں کے ذریعے خارج کرتی ھے، جس کے نتیجے میں خون میں شوگر کی سطح کم ھو جاتی ھے۔

ایک صحت مند انسان کے گُردے خون میں موجود گلوکوز کو فِلٹر کرنے کے بعد دوبارہ واپس جَذب کر لیتے ھیں۔ گلوکوز کو واپس جذب کرنے کے عمل کو سرانجام دینے کیلیئے قدرت نے گردوں میں sodium-glucose co-transporter 2 فراحم کیا ھے۔ اِسے مختصراً SGLT2 کہا جاتا ھے۔ یہ ایک ایسا پمپ ھے جو عام حالات میں گلوکوز کو پیشاب میں بہہ جانے سے بچاتا ھے اور اسے واپس خون میں شامل کر دیتا ھے۔ Empagliflozin اِس پمپ کو روک دیتی ھے، جس کے نتیجے میں گلوکوز واپس جذب ھونے کی بجائے پیشاب کے ذریعے جسم سے خارج ھونے لگتا ھے۔ نتیجتاً خون میں گلوکوز کی سطح کم ھونا شروع ھو جاتی ھے، اور یہی کیفیت شوگر کے مرض کو قابو میں لانے کیلیئے درکار ھوتی ھے۔

ایمپاگلیفلوزِن (Empagliflozin) مندرجہ ذیل مقاصد کیلیئے اِستعمال کروائ جا سکتی ھے:

- ذیابیطس ٹائپ ۲ کے جوان یا بڑی عمر کے مریضوں میں۔

- ذیابیطس ٹائپ ۲ کے جوان یا بڑی عمر کے اُن مریضوں میں جن کو دل یا شریانوں کا کوئ عارضہ لاحق ھو اور اِن امراض کیوجہ سے جان کو خطرہ لاحق ھو۔ یہ دوا اس خطرہ میں کم کا سبب بنتی ھے۔

ایمپاگلیفلوزِن (Empagliflozin) مندرجہ ذیل کیفیات میں استعمال نہیں کرنی چاھیئے

- ایمپاگلیفلوزِن کو ذیابیطس ٹائپ ۱ کے مریضوں میں یا (Diabetic Ketoacidosis (DKA کے علاج کیلیئے تجویز نہیں کیا گیا ھے.

- جن مریضوں کو اس دوا یا اس گروپ کی کسی دوسری دوا سے حساسیت ھو۔

- وہ مریض جن کے گردوں کو کوئ مرض لاحق ھو، یا گُردے فیل ھوں، یا وہ Dialysis کروا رھے ھوں۔

- وہ مریض جن میں (Diabetic Ketoacidosis (DKA کی علامات موجود ھوں، چاھے خون میں گلوکوز کی سطح بالکل نارمل ھی کیوں نہ ھو۔

(Diabetic Ketoacidosis (DKA کی علامات میں یہ شامل ھیں:

جسم میں پانی کی کمی ھونا، جسمانی کیمیائ تیزابیت (Metabolic Acidosis)، مَتلی یا اُلٹی ھونا، پیٹ درد، بے چینی، دَم گُھٹنا یا سانس لینے میں مشکل ھونا۔

- وہ مریض جن کا فشارِ خون نچلی یا کم سطح پر ھو یا جن میں پانی کی کمی ھو۔

- حمل کے تیسرے مہینے کے بعد ایمپاگلیفلوزِن (Empagliflozin) کا استعمال مناسب خیال نہیں کیا جاتا کیونکہ اس سے بچے کو خطرہ ھو سکتا ھے۔ دودھ پلانے والی ماؤں میں اس دوا کا استعمال مناسب نہیں ھے۔

- بڑی عمر کے افراد میں گُردوں کے نسبتاً کم فعال ھونے کی وجہ سے مسائل پیدا ھو سکتے ھیں۔ جسم میں پانی کی کمی بھی مسائل کا سبب بن سکتی ھے۔

دیگر تفصیلات

جن افراد کے گردے کسی بیماری کی وجہ سے متاثر ھوں، اُن میں بھی اس دوا کا استعمال نقصان کا سبب بن سکتا ھے۔ یہ دوا جسم میں پانی کی کمی (Volume contraction) کا سبب بنتی ھے جس وجہ سے فشارِ خون کم ھو سکتا ھے۔ وہ لوگ جو پیشاب آور ادویات استعمال کر رھے ھوں، اُن میں یہ کیفیت ھونے کے امکانات زیادہ ھوتے ھیں۔ لہٰذا ایمپاگلیفلوزِن (Empagliflozin) شروع کرنے سے پہلے ضروری ھے کہ اس بات کی تسلی کر لی جائے کہ جسم میں پانی کی کمی نہ ھو اور فشارِ خون مناسب سطح پر ھو۔

ایسی بہت سی رپورٹیں سامنے آ چکی ھیں، جن میں بتایا گیا ھے کہ اس دوا کو استعمال کرنے کے بعد شوگر کے مریضوں میں Diabetic Ketoacidosis کی کیفیت سامنے آئ۔ لہٰذا اگر Diabetic Ketoacidosis کی نشانیاں (جو اوپر بیان کی جا چکی ھیں) موجود ھوں، تو اس دوا کو فوراً بند کر کے Diabetic Ketoacidosis کے علاج پر توجہ دیں۔

ایمپاگلیفلوزِن (Empagliflozin) کے استعمال سے creatinine بڑھ سکتا ھے اور گردوں کے فلٹر کرنے کی رفتار eGFR میں کمی واقع ھو سکتی ھے۔ اس لیئے یہ دوا شروع کرنے سے پہلے اور دوا کے استعمال کے دوران گُردوں کے فعل کی جانچ کرنا ضروری ھے۔ جن افراد میں eGFR کی سطح 30 mL/min/1.73 m2 سے کم ھو، اُن کو یہ دوا ھرگز استعمال نہیں کرنی چاھیئے۔

ایمپاگلیفلوزِن (Empagliflozin) کے استعمال کرنے والے افراد میں پیشاب کے نظام کی انفیکشن زیادہ عام پائ جاتی ھے۔ Urosepsis یا Pyelonephritis کی صورت میں ھاسپیٹل سے علاج کروانے کی ضرورت پڑ سکتی ھے۔

وہ افراد جو ایسی ادویات استعمال کر رھے ھوں جن سے جسم میں انسولین کی مقدار بڑھ جاتی ھے، اُن افراد میں اس دوا کے استعمال سے خون میں گلوکوز کی سطح خطرناک حد تک گِر سکتی ھے۔ اس لیئے اگر اس دوا کا استعمال شروع کرنا ھو، تو شوگر کی دوسری ادویات کی خوراک میں کمی یا ردوبدل ضروری سمجھا جاتا ھے، تاکہ خون میں گلوکوز مناسب سطح پر برقرار رھے۔

کچھ کیس ایسے بھی رپورٹ ھو چکے ھیں جن میں ایمپاگلیفلوزِن (Empagliflozin) کا استعمال (Fournier’s gangrene (necrotizing fasciitis کا سبب بنا۔ یہ ایک خطرناک کیفیت ھےجس کے علاج کیلیئے فوری طور پر ھسپتال میں داخلہ اور ممکنہ طور پر عملِ جراحی کی ضرورت ھوتی ھے۔ اگر اس دوا کو استعمال کرنے والے افراد کو پیشاب والی جگہ کے آس پاس درد، سُرخی، سوجن، بخار اور بے چینی محسوس ھو، تو فوراً اپنے معالج سے رجوع کریں۔ ایسی کیفیت میں اس دوا کا استعمال فوری طور پر بند کر دینا بہتر سمجھا جاتا ھے، تاھم اپنے معالج کی رائے کو مقدم جانیں۔

اس دوا کے استعمال سے جنسی اعضاء یا پیشاب والی جگہ پر پھپھوندی کی انفیکشن (Genital Mycotic Infections) ھونے کے امکانات بڑھ سکتے ھیں۔

کچھ لوگوں میں اس دوا کے استعمال سے LDL-cholesterol کی سطح بلند ھو سکتی ھے، جس کی درستگی کیلیئے اقدامات ضرور کرنے چاھیئے۔ اس سلسلے میں اپنے معالج سے رجوع کریں۔

چونکہ ایمپاگلیفلوزِن (Empagliflozin) کے استعمال سے گلوکوز پیشاب کے ذریعے جسم سے خارج ھوتا ھے، اس لیئے جب کوئ مریض یہ دوا استعمال کر رھا ھو، تو شوگر چیک کرنے کیلیئے ایسا کوئ طریقہ صحیح نتائج نہیں دے گا جو پیشاب میں گلوکوز کی سطح معلوم کرتا ھو۔


Skype

Clicking Subscribe button will subscribe you to our marketing campaigns as well.